مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 611
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، هَذِهِ الدَّارِ قال : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وقت پر نماز پڑھنا ، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل الاعمال (زیادہ بہتر) کہا گیا ہے، اس کی توجیہ بعض لوگوں نے اس طرح کی ہے کہ ان میں «مِن» پوشیدہ ہے یعنی من افضل الاعمال یعنی یہ کام زیادہ فضیلت والے عملوں میں سے ہے یا ان کی فضیلت میں مختلف اقوال، اوقات یا جگہوں کا اعتبار ملحوظ ہے، مثلاً کسی وقت اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے، اور کسی وقت جہاد یا حج مبرور افضل ہے، یا مخاطب کے اعتبار سے اعمال کی افضیلت بتائی گئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المواقیت 5 (527)، الجھاد 1 (2782)، الأدب 1 (5970)، التوحید 48 (7534)، صحیح مسلم/الإیمان 36 (85)، سنن الترمذی/الصلاة 13 (173)، البر والصلة 2 (1898)، (تحفة الأشراف: 9232)، مسند احمد 1/409، 439، 442، 451، سنن الدارمی/الصلاة 24 (1261) (صحیح)»
حدیث نمبر: 612
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قال : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " إِقَامُ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 611 (صحیح)»
حدیث نمبر: 613
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَعَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاة فَجُعِلُوا يُنْتَظَرُونَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ ، قَال : وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ : هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ ، وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى " . وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ` وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی ، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے ( جب وہ آئے تو ) انہوں نے کہا : میں وتر پڑھنے لگا تھا ، ( اس لیے تاخیر ہوئی ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا : کیا ( فجر کی ) اذان کے بعد وتر ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، اور اقامت کے بعد بھی ، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۱؎ اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ وقت گزر جانے سے نماز ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کی قضاء کرنی پڑتی ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ قضاء فرائض کے ساتھ خاص ہے وہ اس حدیث سے وتر کے واجب ہونے پر دلیل پکڑتے ہیں، لیکن اس روایت میں فرائض کے ساتھ قضاء کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں، سنتوں کی قضاء بھی ثابت ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد إن كان محمد بن المنتشر سمع ابن مسعود وقصة النوم صحيحة , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9481)، وأعادہ برقم: 1686 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔