حدیث نمبر: 610
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ ، فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ، قَالَ : فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " فَلَمَّا أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَزَعُوا رِحَالَهُمْ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ( انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا ) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر آئے تو اترے ، اور پیشاب کیا ، ( انہوں نے لفظ «بَالَ» کہا «أهراق الماء» نہیں کہا ۱؎ ) تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا ، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا ، میں نے آپ سے عرض کیا : نماز پڑھ لیجئیے ، تو آپ نے فرمایا : نماز تمہارے آگے ہے ، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی ، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے ، پھر آپ نے عشاء پڑھی ۔
وضاحت:
۱؎: ان دونوں لفظوں کے معنی ہیں ”پیشاب کیا“۔