مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 606
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 96 (1674)، المغازي 76 (4414)، صحیح مسلم/الحج 47 (1287)، سنن ابن ماجہ/المناسک 60 (3020)، (تحفة الأشراف: 3465)، موطا امام مالک/الحج 65 (198)، مسند احمد 5/418، 419، 420، 421، سنن الدارمی/الصلاة 182 (1557)، المناسک 52 (1925)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3029 مختصراً (صحیح)»
حدیث نمبر: 607
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قال : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، " فَلَمَّا أَتَى جَمْعًا جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` جب ابن عمر رضی اللہ عنہم عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا ، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی ، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے : اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 482 (صحیح)»
حدیث نمبر: 608
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء ( جمع کر کے ) پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 47 (703)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1926)، موطا امام مالک/الحج 65 (196)، مسند احمد 2/56، (تحفة الأشراف: 6914) (صحیح)»
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ صَلَاتَيْنِ إِلَّا بِجَمْعٍ وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ وَقْتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ۱؎ ، آپ نے اس روز فجر ( اس کے عام ) وقت سے ۲؎ پہلے پڑھ لی ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن مسعود کا نہ دیکھنا جمع بین الصلاتین کی نفی کو مستلزم نہیں، خصوصاً جب عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے جمع بین الصلاتین کی صحیح روایات منقول ہیں۔ ۲؎: یعنی فجر طلوع ہوتے ہی پڑھ لی جب کہ عام حالات میں طلوع فجر کے بعد کچھ انتظار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1934)، (تحفة الأشراف: 9384)، مسند احمد 1/384، 426، 434، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3013، 3030، 3041 مختصراً (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔