حدیث نمبر: 589
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قال : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا ، قال : سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ صَلَاةِ أَبِيهِ فِي السَّفَرِ وَسَأَلْنَاهُ : هَلْ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فِي سَفَرِهِ ؟ فَذَكَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ ، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي زَرَّاعَةٍ لَهُ : أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ فَرَكِبَ ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا حَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ ، قال لَهُ الْمُؤَذِّنُ : الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ نَزَلَ ، فَقَالَ : أَقِمْ ، فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، قال لَهُ الْمُؤَذِّنُ : الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : كَفِعْلِكَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ ، ثُمّ قال لِلْمُؤَذِّنِ : أَقِمْ ، فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْأَمْرُ الَّذِي يَخَافُ فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ` میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) کی نماز کے بارے میں پوچھا ، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید ( جو ان کے عقد میں تھیں ) نے انہیں لکھا ، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے ( یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے ، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! نماز پڑھ لیجئیے ، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا ، تو سواری سے اترے اور بولے : تکبیر کہو ، اور جب میں سلام پھیر لوں تو ( پھر ) تکبیر کہو ، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی ، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا : نماز پڑھ لیجئیے ، انہوں نے کہا : جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو ، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے ، تو سواری سے اترے ، پھر مؤذن سے کہا : تکبیر کہو ، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو ، تو انہوں نے نماز پڑھی ، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح ( جمع کر کے ) نماز پڑھے “ ۔
وضاحت:
۲؎: یعنی تھوڑا سا رک کر کے جیسا کہ صحیح بخاری میں «فلما يلبث حتى يقيم العشاء» کے الفاظ وارد ہیں۔