مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: فجر پڑھنے تک (نفل) نماز کے جائز ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 585
أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَأَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال أَيُّوبُ حَدَّثَنَا ، وَقَالَ حَسَنٌ ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قال : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَسْلَمَ مَعَكَ ؟ قَالَ : حُرٌّ وَعَبْدٌ ، قُلْتُ : هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُخْرَى ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، فَصَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ، ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ ، وَقَالَ أَيُّوبُ : فَمَا دَامَتْ كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ ، ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّهَارِ ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ کون اسلام لایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آزاد اور ایک غلام “ ۱؎ میں نے عرض کیا : کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہو “ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، رات کا آخری حصہ ہے ، اس میں فجر پڑھنے تک جتنی نماز چاہو پڑھو ، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے ، اور اسی طرح اس وقت تک رکے رہو جب تک سورج ڈھال کی طرح رہے ( ایوب کی روایت میں «وما دامت» کے بجائے «فما دامت» ہے ) یہاں تک کہ روشنی پھیل جائے ، پھر جتنی چاہو پڑھو یہاں تک کہ ستون اپنے سایہ پر کھڑا ہو جائے ۲؎ پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، اس لیے کہ نصف النہار ( کھڑی دوپہر ) میں جہنم سلگائی جاتی ہے ، پھر جتنا مناسب سمجھو نماز پڑھو یہاں تک کہ عصر پڑھ لو ، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ، اس لیے کہ سورج شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے ، اور دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: آزاد سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور غلام سے بلال رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ ۲؎: یعنی سایہ کم ہوتے ہوتے صرف ستون کے نیچے رہ جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1364،1251) عبد الرحمٰن بن البيلماني ضعيف،. ولبعض الحديث شاهد عند مسلم (832). والحديث السابق (572) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 148 (1251)، 182 (1364)، (تحفة الأشراف: 10762)، مسند احمد 4/111، 113، 114 (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس سند کے اندر ’’ عبدالرحمن بیلمانی ‘‘ ضعیف ہیں)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔