مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 566
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا : حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے ، یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے : ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو ، یہاں تک کہ بلند ہو جائے ، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 566
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم : 561(صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔