مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نماز کے ممنوع اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 560
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّمْسُ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا ، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا ، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا ، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ۱؎ ، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے ، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آ جاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے ، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے ، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے ، تو اس سے مل جاتا ہے ، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( تینوں ) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی شیطان سورج سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سورج کے پوجنے والوں کا سجدہ اس کے لیے ہو جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح إلا قوله فإذا استوت قارنها فإذا زالت فارقها , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/إقامة 148 (1253)، موطا امام مالک/القرآن 10 (44)، (تحفة الأشراف: 9678)، مسند احمد 4/348، 349 (صحیح) (لیکن تعلیل میں ’’فإذا استوت قارنھا، فإذا زالت فارقھا‘‘ کا جملہ منکر ہے، اس کی جگہ عمروبن عبسہ کی حدیث (رقم: 573) میں ’’فإنہا ساعة تفتح فیہا أبواب جہنم وتسجر‘‘ کا جملہ صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 561
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا : حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے اور اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کرتے تھے : ایک تو جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے ، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو جائے یہاں تک کہ ڈوب جائے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 561
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین 51 (831)، سنن ابی داود/الجنائز 55 (3192)، سنن الترمذی/الجنائز 41 (1030)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 30 (1519)، (تحفة الأشراف: 9939)، مسند احمد 4/152، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1472)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 566، 2015 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔