مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: فجر کے آخری وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ قَالَ : عَلَى إِثْرِهِ ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے ، جب سورج ڈھل جاتا تھا ، اور عصر تمہاری ان دونوں نمازوں ۱؎ کے درمیان پڑھتے تھے ، اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈوب جاتا تھا ، اور عشاء اس وقت پڑھتے تھے جب شفق غائب جاتی تھی ، پھر اس کے بعد انہوں نے کہا : اور آپ فجر پڑھتے تھے یہاں تک کہ نگاہ پھیل جاتی تھی ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان دونوں نمازوں سے مراد ظہر اور عصر ہے یعنی تمہاری ظہر اور تمہاری عصر کے بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر ہوتی تھی، مقصود اس سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر جلدی پڑھتے تھے اور تم لوگ تاخیر سے پڑھتے ہو۔ ۲؎: یعنی اجالا ہو جاتا اور ساری چیزیں دکھائی دینے لگتی تھیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 553
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 259)، مسند احمد 3/129، 169 (صحیح الإسناد)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔