مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نماز فجر اسفار میں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قال : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فجر اسفار میں پڑھو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس قدر تاخیر کرو کہ طلوع فجر میں شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مساجد کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر خوب لمبی پڑھو تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے جیسا کہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان لیتا، اس طرح اس میں اور غلس والی روایت میں کوئی منافات نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الصلاة 8 (424) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 5 (154) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (672) مطولاً، (تحفة الأشراف: 3582)، مسند احمد 3/465، 4/ 140، 142، سنن الدارمی/الصلاة 21 (1253، 1254، 1255) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 550
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قال : أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قال : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالْأَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے ، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: علماء نے اسفار کی تاویل یہ کی ہے کہ فجر واضح ہو جائے، اس کے طلوع میں کوئی شک نہ ہو، اور ایک تاویل یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں صلاۃ سے نکلنے کے وقت کا بیان ہے نہ کہ صلاۃ میں داخل ہونے کا اس تاویل کی رو سے فجر غلس میں شروع کرنا، اور اسفار میں ختم کرنا افضل ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 550
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 15670) (صحیح الإسناد)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔