مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: نماز عشاء کو عتمہ کہنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 541
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قال : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگ اس ثواب کو جو اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے میں ہے جان لیتے پھر اس کے لیے سوائے قرعہ اندازی کے کوئی اور راہ نہ پاتے ، تو ضرور قرعہ ڈالتے ، اور اگر لوگ جان لیتے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ہے ، تو ضرور اس کی طرف سبقت کرتے ، اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عتمہ ( عشاء ) اور فجر میں آنے میں کیا ثواب ہے ، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آتے خواہ انہیں گھٹنے یا سرین کے بل گھِسٹ کر آنا پڑتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 541
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأذان 9 (615)، 32 (654)، 72 (721)، الشھادات 30 (2689)، صحیح مسلم/الصلاة 28 (437)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (225)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (3)، الجماعة 2 (6)، (تحفة الأشراف: 12570)، مسند احمد 2/236، 278، 303، 334، 375، 376، 424، 466، 472، 479، 531، 533، ویأتي عند المؤلف في باب 31 برقم: 672) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔