مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عشاء کو تاخیر سے پڑھنے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 531
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، قال : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ، قَالَ : كَانَ " يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، قَالَ : وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، قَالَ : وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ ، قَالَ : وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ` میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا : ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی ( نماز پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا ، اور سورج تیز اور بلند ہوتا ، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں ( اسے ) بھول گیا ، اور کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے ، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا ، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 531
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم : 496 (صحیح)»
حدیث نمبر: 532
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا ؟ قال : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا . فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ ، قَالَ : وَأَشَارَ ، فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ ، كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَيْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ لَا يُصَلُّوهَا إِلَّا هَكَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن جریج کہتے ہیں کہ` میں نے عطاء سے پوچھا : عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے ، ( پھر ) بیدار ہوئے ( پھر ) سو گئے ، ( پھر ) بیدار ہوئے ، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے : صلاۃ ! صلاۃ ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے ۔ راوی ( ابن جریج ) کہتے ہیں : میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا ؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا ، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا ، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے ، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے ، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے ، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المواقیت 24 (571)، والتمنی 9 (7239)، صحیح مسلم/المساجد 39 (642)، (تحفة الأشراف: 5915)، مسند احمد 1/221، 366، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1251) (صحیح)»
حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّهُ الْوَقْتُ ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا ( ایک حصہ ) گزر گیا ، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور آواز دی : اللہ کے رسول ! صلاۃ ! عورتیں اور بچے سو گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، اور آپ فرما رہے تھے : ” یہی ( مناسب اور پسندیدہ ) وقت ہے ، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا “ ( تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 534
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو مؤخر کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 39 (643)، (تحفة الأشراف: 2170)، مسند احمد 5/89، 93، 94، 95 (صحیح)»
حدیث نمبر: 535
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے ، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة 15 (252) مختصراً، سنن ابی داود/الطھارة 25 (46) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (287) مختصراً، الصلاة 8 (690) مختصراً، موطا امام مالک/الطھارة 32 (114)، مسند احمد 2/245، 250، 259، 287، 400، 429، 433، 460، 509، 517، 531، سنن الدارمی/الصلاة 168 (1525)، (تحفة الأشراف: 13673) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔