مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عشاء جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ، قال : قَدِمَ الْحَجَّاجُ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ` حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں ( سورج ڈھلتے ہی ) پڑھتے تھے ، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا ، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا ، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے ، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 528
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المواقیت 18 (560)، 21 (565)، صحیح مسلم/المساجد 40 (646)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (397)، (تحفة الأشراف: 2644)، مسند احمد 3/369، 370، سنن الدارمی/الصلاة 2 (1222) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔