مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عشاء کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 527
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، قال : أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قال : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ جَاءَهُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ الشَّفَقُ جَاءَهُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ فِي الصُّبْحِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ ، فَقَالَ : " مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ كُلُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا ، اور کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں ، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو گیا ، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور عصر پڑھیں ، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا ، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور مغرب پڑھیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی ، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا : اٹھیں اور عشاء پڑھیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی ، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہو گئی ، اور کہنے لگے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا فرمائی ، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا ، اور کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی ، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا ، اور کہنے لگے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی ، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے ، اور کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی ، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہو گیا ، اور کہا : اٹھیں اور نماز ادا کریں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی ، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہو گیا ، اور کہا : اٹھیں اور نماز ادا کریں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی ، پھر انہوں نے کہا : ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 1 (150) نحوہ، (تحفة الأشراف: 3128)، مسند احمد 3/330، 331 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔