مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مغرب کے اخیر وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 523
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قال شُعْبَةُ : كَانَ قَتَادَةُ يَرْفَعُهُ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ ، قال : " وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا لَمْ يَنْتَصِفْ اللَّيْلُ ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے ( شعبہ کہتے ہیں : قتادہ اسے کبھی مرفوع کرتے تھے اور کبھی مرفوع نہیں کرتے تھے ۱؎ )` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ آ جائے ، اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے ، اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق کی سرخی چلی نہ جائے ، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے ، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج نکل نہ جائے ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں دیگر دو سندوں سے مرفوعاً ہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 523
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 31 (612)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (396)، (تحفة الأشراف: 8946)، مسند احمد 2/210، 213، 223 (صحیح)»
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، قال : إِمْلَاءً عَلَيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، " فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ أَعْلَمُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ انْصَرَفَ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ قَالَ : " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا وہ آپ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جس وقت فجر کی پو پھٹ گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا ، اور کہنے والے نے کہا : کیا دوپہر ہو گئی ؟ حالانکہ وہ خوب جانتا ہوتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلند تھا ، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی تکبیر کہی جب سورج ڈوب گیا ، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب شفق غائب ہو گئی ، پھر دوسرے دن آپ نے فجر کو مؤخر کیا جس وقت پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل آیا ، پھر ظہر کو کل کے عصر کی وقت کے قریب وقت تک مؤخر کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کو دیر سے پڑھی یہاں تک کہ پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا سورج سرخ ہو گیا ہے ، پھر آپ نے مغرب دیر سے پڑھی یہاں تک کہ شفق کے ڈوبنے کا وقت ہو گیا ، پھر عشاء کو آپ نے تہائی رات تک مؤخر کیا ، پھر فرمایا : ” نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 31 (614)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (395)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 9137)، مسند احمد 4/416، 5/349 (صحیح)»
حدیث نمبر: 525
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قال : حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قال : حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : دَخَلْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقُلْنَا لَهُ : أَخْبِرْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَظِلِّ الرَّجُلِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْغَدِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ طُولَ الرَّجُلِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ سَيْرَ الْعَنَقِ إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ شَكَّ زَيْدٌ ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بشیر بن سلام کہتے ہیں کہ` میں اور محمد بن علی دونوں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے ہم نے کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے ( یہ حجاج بن یوسف کا عہد تھا ) تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا ، اور «فىء» ( زوال کے بعد کا سایہ ) تسمے کے برابر ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جس وقت «فىء» تسمے کے اور آدمی کے سایہ کے برابر ہو گیا ، پھر آپ نے مغرب پڑھائی جب سورج ڈوب گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی جس وقت فجر طلوع ہو گئی ، پھر دوسرے دن آپ نے ظہر پڑھائی جب سایہ آدمی کی لمبائی کے برابر ہو گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جب آدمی کا سایہ اس کے دوگنا ہو گیا ، اور اس قدر دن تھا جس میں سوار متوسط رفتار میں ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھائی جس وقت سورج ڈوب گیا ، پھر تہائی رات یا آدھی رات کو عشاء پڑھائی ( یہ شک زید کو ہوا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی تو آپ نے خوب اجالا کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسين بن بشير بن سلام الأنصاري مجهول الحال،ذكره ابن حبان وحده فى الثقات (6/ 206) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2217) (صحیح) بما تقدم برقم : 505 وما یأتی بأرقام 527، 528 (اس کے راوی ’’حسین‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔