مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مغرب کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : أَقِمْ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ " فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ عِنْدَ الْفَجْرِ فَصَلَّى الْفَجْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ رَأَى الشَّمْسَ بَيْضَاءَ فَأَقَامَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ ، ثُمَّ أَبْرَدَ بِالظُّهْرِ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ وَأَخَّرَ عَنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّاهَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ؟ وَقْتُ صَلَاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا ، آپ نے فرمایا : ” تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو “ ، آپ نے بلال کو حکم دیا ، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی ، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا ، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی ، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ۱؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا ، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی ، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہو گیا ، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی ، پھر جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی ، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی ، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہو جانے پر کہی ، پھر ظہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا ، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید ( روشن ) تھا ، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہو گئی تھی ، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی ، پھر بلال کو حکم دیا ، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی ، پھر فرمایا : ” نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی۔ ۲؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 520
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 31 (613)، سنن الترمذی/الصلاة 1 (152)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 1 (667)، (تحفة الأشراف: 1931)، مسند احمد 5/349 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔