مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عصر کے اخیر وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ ، قال : حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ ، فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَأَتَاهُ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَ شَخْصِهِ ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلَفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصِهِ ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصَيْهِ ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا فَأَتَاهُ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ امْتَدَّ الْفَجْرُ وَأَصْبَحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے ، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا ، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا ، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا ، جبرائیل آگے بڑھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے ، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ، پھر انہوں نے عصر پڑھائی ، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا ، تو جبرائیل آگے بڑھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے ، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی ، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی ، تو وہ آگے بڑھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے ، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ، تو انہوں نے عشاء پڑھائی ، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی ، تو وہ آگے بڑھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ، انہوں نے فجر پڑھائی ، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا ، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا ، تو ظہر پڑھائی ، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا ، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا ، تو انہوں نے عصر پڑھائی ، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا ، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا ، تو انہوں نے مغرب پڑھائی ، پھر ہم سو گئے ، پھر اٹھے ، پھر سو گئے پھر اٹھے ، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا ، پھر عشاء پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر ( کی روشنی ) پھیل گئی ، صبح ہو گئی ، اور ستارے نمودار ہو گئے ، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا ، تو انہوں نے فجر پڑھائی ، پھر کہا : ” ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2401)، مسند احمد 3/330 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔