مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عصر تاخیر سے پڑھنے کی وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 512
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قال : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ؟ قُلْنَا : لَا ، إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ ، قَالَ : فَصَلُّوا الْعَصْرَ ، قَالَ : فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ ، جَلَسَ يَرْقُبُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علاء کہتے ہیں کہ` وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے ، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا ، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : نہیں ، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں ، تو انہوں نے کہا : تو عصر پڑھ لو ، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی ، جب ہم پڑھ چکے تو انس رضی اللہ عنہ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہو جائے ، ( غروب کے قریب ہو جائے ) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے ، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 34 (622)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (413)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (160)، موطا امام مالک/القرآن10(46)، (تحفة الأشراف: 1122)، مسند احمد 3/102، 103، 149، 185، 247 (صحیح)»
حدیث نمبر: 513
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (685)، (تحفة الأشراف: 6829)، مسند احمد 2/8، سنن الدارمی/الصلاة 27 (1266) (صحیح)»
حدیث نمبر: 513M
أخبرنا قتيبة عن مالك عن نافع عن ابن عمر - رضى الله عنهما - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الذي تفوته صلاة العصر فكأنما وتر أهله وماله ‏"‏ ‏.‏
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 513M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «t»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔