حدیث نمبر: 506
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی ، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی ، اور سایہ ان کے حجرے سے ( دیوار پر ) نہیں چڑھا تھا ۔
حدیث نمبر: 507
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَالِكٍ ، قال : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ " ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَقَالَ الْآخَرُ : وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے ، پھر جانے والا قباء جاتا ، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ، اور دوسرے کی روایت میں ہے : اور سورج بلند ہوتا ۔
وضاحت:
۱؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا ، اور جانے والا ( نماز پڑھ کر ) عوالی جاتا ، اور سورج بلند ہوتا ۔
وضاحت:
۱؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر پڑھاتے اور سورج سفید اور بلند ہوتا ۔
حدیث نمبر: 510
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، قُلْتُ : يَا عَمِّ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : الْعَصْرَ ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں :` ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے ، یہاں تک کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا ، تو میں نے پوچھا : میرے چچا ! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : عصر کی ، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 511
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قال : " صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَنَا : أَصَلَّيْتُمْ ؟ قُلْنَا : صَلَّيْنَا الظُّهْرَ ، قَالَ : إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ ، فَقِالُوا لَهُ : عَجَّلْتَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی ، پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں ( بھی ) نماز پڑھتے ہوئے پایا ، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا : تم نماز پڑھ چکے ہو ؟ ہم نے کہا : ( ہاں ) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے ، انہوں نے کہا : میں نے تو عصر پڑھی ہے ، تو لوگوں نے ان سے کہا : آپ نے جلدی پڑھ لی ، انہوں نے کہا : میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے ۔