مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: سفر میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 499
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر سے پہلے ) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے ، اس پر ایک آدمی نے کہا : اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے اترتے، جیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ ۲؎: مراد زوال کے فوراً بعد ہے، کیونکہ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 499
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الصلاة 273 (1205)، (تحفة الأشراف: 555)، مسند احمد 3/120، 129 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔