کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: آٹا لگے ہوئے برتن میں پانی بھر کر غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قال : حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ " وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ ، قَالَتْ : فَصَلَّى الضُّحَى ، فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا ، اور آپ کو ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں ، تو جب آپ غسل کر چکے ، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی ، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی ۔
وضاحت:
۱؎: جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے راوی نے اختصار کی غرض سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الغسل والتيمم / حدیث: 415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله فما أدري .. إلخ فإنه شاذ ولعله من أوهام عبدالملك فقد صح من طرق عن أم هانىء أنه صلى ثمان ركعات بعضها في الصحيحين , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 18009)، مسند احمد 6/341 (شاذ) (اس کا آخری ٹکڑا ’’فما ا ٔدری…الخ ہی شاذ ہے، کیوں کہ ام ہانی کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں، دیکھئے حدیث رقم226)»