کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: رات کے ابتدائی اور آخری حصہ میں غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قال : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا ، قُلْتُ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ ؟ قَالَتْ : كُلَّ ذَلِكَ " رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ " ، قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں ؟ تو انہوں نے کہا : دونوں وقتوں میں کرتے تھے ، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں ، میں نے کہا : شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه / حدیث: 224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17429) (صحیح)»