حدیث نمبر: 193
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قال : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، وَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو ، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو ، اور جب پانی ( منی ) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو “ ۔
حدیث نمبر: 194
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قال : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی ، تو میں نے ۱؎ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مذی دیکھو تو وضو کر لو ، اور اپنا ذکر دھو لو ، اور جب پانی ( منی ) کو کودتے دیکھو ، تو غسل کرو “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مقداد یا عمار کے واسطہ سے پوچھا، جیسا کہ حدیث نمبر: ۱۵۲، ۱۵۷ میں گزر چکا ہے۔ ۲؎: منی کا ذکر افادئہ مزید کے لیے ہے ورنہ جواب مذی کے ذکر ہی پر پورا ہو چکا تھا۔