مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اولے کے پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 62
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قال : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قال : شَهِدْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَأَوْسِعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنازے پر نماز پڑھتے ہوئے سنا ، تو میں نے آپ کی دعا میں سے سنا آپ فرما رہے تھے : «اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله وأوسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ‏» ” اے اللہ ! اسے بخش دے ، اس پر رحم کر ، اسے عافیت سے رکھ ، اس سے درگزر فرما ، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما ، اس کی جگہ ( قبر ) کشادہ کر دے ، اس ( کے گناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اور اس کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 62
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الجنائز 26 (963)، سنن الترمذی/الجنائز 38 (1025)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1500)، (تحفة الأشراف: 10901)، مسند احمد 6/23، 28، ویأتي عند المؤلف برقم: (1985، وعمل الیوم واللیلة (1087) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔