مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: گوبر سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، قال : أَخْبَرَنِي الْقَعْقَاعُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ ، إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَلَاءِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ " . وَكَانَ " يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں ( باپ کی طرح ہوں ) ، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے ، نہ پیٹھ ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے “ ، آپ ( استنجاء کے لیے ) تین پتھروں کا حکم فرماتے ، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے ( استنجاء کرنے سے ) آپ منع فرماتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آیا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو کسی کام کی نہیں ہوتی جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 40
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن ابن ماجہ/فیہ 16 (313)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 17 (65) مختصراً، مسند احمد 2/247، 250، سنن الدارمی/الطہارة 14 (701) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔