مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 34
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ " . قَالُوا لِقَتَادَةَ : وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ ؟ قَالَ : يُقَالُ : إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے “ ، لوگوں نے قتادہ سے پوچھا ؛ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کی رہائش گاہیں ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سانپ، بچھو وغیرہ سوراخ سے نکل کر ایذا نہ پہنچائیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 34
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (29) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الطہارة 16 (29)، (تحفة الأشراف: 5322)، مسند احمد 5/82 (ضعیف) (قتادہ کا سماع عبداللہ بن سرجس سے نہیں ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، تراجع الالبانی 131)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔