مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: حوض کوثر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4301
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ الْكَعْبَةِ , وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ , أَبْيَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ , آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ , وَإِنِّي لَأَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا ایک حوض ہے ، کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک ، دودھ جیسا سفید ہے ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں ، اور قیامت کے دن میرے پیروکار اور متبعین تمام انبیاء کے پیروکاروں اور متبعین سے زیادہ ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4199 ، ومصباح الزجاجة : 1541 ) ( صحیح ) » ( سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں ، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 3949 ، تراجع الألبانی : رقم : 489 )
حدیث نمبر: 4302
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ أَبِي مَالِكٍ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ , عَنْ رِبْعِيٍّ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنَ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ , وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " , قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ , تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ , لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگاؤں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے “ ، سوال کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ تمہارے ہاتھ اور منہ وضو کے نشان سے روشن ہوں گے ، اور یہ نشان تمہارے علاوہ اور کسی کا نہیں ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الطہارة 12 ( 248 ) ، ( تحفة الأشراف : 3315 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/383 ، 406 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4303
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ , حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ الدِّمَشْقِيُّ , نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ , قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَيْتُهُ عَلَى بَرِيدٍ , فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ , قَالَ : لَقَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلَّامٍ فِي مَرْكَبِكَ , قَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ , وَلَكِنْ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ , فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ , قَالَ : فَقُلْتُ : حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى أَيْلَةَ , أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ , أَوانيِهُ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ , مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا , وَأَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ , الدُّنْسُ ثِيَابًا وَالشُّعْثُ رُءُوسًا , الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ , وَلَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ " , قَالَ : فَبَكَى عُمَرُ حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ , ثُمَّ قَالَ : لَكِنِّي قَدْ نَكَحْتُ الْمُنَعَّمَاتِ , وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ , لَا جَرَمَ أَنِّي لَا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي عَلَى جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ , وَلَا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلام حبشی کہتے ہیں کہ` عمر بن عبدالعزیز نے مجھ کو بلا بھیجا ، میں ان کے پاس ڈاک کے گھوڑے پر بیٹھ کر آیا ، جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا : اے ابو سلام ! ہم نے آپ کو زحمت دی کہ آپ کو تیز سواری سے آنا پڑا ، میں نے کہا : بیشک ، اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! ( ہاں واقعی تکلیف ہوئی ہے ) ، انہوں نے کہا ، اللہ کی قسم ، میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ، لیکن مجھے پتا چلا کہ آپ ثوبان رضی اللہ عنہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ) سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں تو میں نے چاہا کہ یہ حدیث براہ راست آپ سے سن لوں ، تو میں نے کہا کہ مجھ سے ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے ایلہ تک کا فاصلہ ، دودھ سے زیادہ سفید ، اور شہد سے زیادہ میٹھا ، اس کی پیالیاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں ، جو شخص اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا ، اور سب سے پہلے جو لوگ میرے پاس آئیں گے ( پانی پینے ) وہ میلے کچیلے کپڑوں اور پراگندہ بالوں والے فقراء مہاجرین ہوں گے ، جو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے “ ۔ ابو سلام کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی ، پھر بولے : میں نے تو ناز و نعم والی عورتوں سے نکاح بھی کیا ، اور میرے لیے دروازے بھی کھلے ، اب میں جو کپڑا پہنوں گا ، اس کو ہرگز نہ دھووں گا ، جب تک وہ میلا نہ ہو جائے ، اور اپنے سر میں تیل نہ ڈالوں گا جب تک کہ وہ پراگندہ نہ ہو جائے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / ت+2444
حدیث تخریج «سنن الترمذی/صفة القیامة 15 ( 2444 ) ، ( تحفة الأشراف : 2120 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/275 ) ( صحیح ) » ( عباس بن سالم اور ابو سلام کے مابین انقطاع کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے ، لیکن مرفوع حدیث دوسرے طریق سے ثابت ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1082 ، السنة لابن ابی عاصم : 707 - 708 )
حدیث نمبر: 4304
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ , أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعُمَانَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے حوض کے دونوں کناروں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا صنعاء اور مدینہ میں یا مدینہ و عمان میں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4304
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الفضائل 10 ( 2303 ) ، ( تحفة الأشراف : 1370 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الرقاق 53 ( 6591 ) ، مسند احمد ( 3/133 ، 216 ، 219 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4305
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حوض کوثر پر چاندی اور سونے کے جگ آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4305
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الفضائل 9 ( 2303 ) ، ( تحفة الأشراف : 1193 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/238 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبَرَةِ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ , وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِكُمْ لَاحِقُونَ " , ثُمَّ قَالَ : " لَوَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " , قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ أَصْحَابِي , وَإِخْوَانِي , الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي , وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ , قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ , بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ , أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا " , قَالُوا : بَلَى , قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا , مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَارِ الْوُضُوءِ " , قَالَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْض " , ثُمَّ قَالَ : " لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ , فَأُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمُّوا " , فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ وَلَمْ يَزَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ , فَأَقُولُ : " أَلَا سُحْقًا سُحْقًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے ، اور قبر والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله تعالى بكم لاحقون» ” اے مومن قوم کے گھر والو ! آپ پر سلامتی ہو ، ان شاءاللہ ہم آپ لوگوں سے جلد ہی ملنے والے ہیں “ ، پھر فرمایا : ” میری آرزو ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ فرمایا : ” تم سب میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے ، اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کی امت میں سے جو لوگ ابھی نہیں آئے ہیں آپ ان کو کیسے پہچانیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا وہ آدمی جس کے گھوڑے سفید پیشانی ، اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں خالص کالے گھوڑوں کے بیچ میں ان کو نہیں پہچانے گا “ ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے اخوان قیامت کے دن وضو کے نشانات سے ( اسی طرح ) سفید پیشانی ، اور سفید ہاتھ پاؤں ہو کر آئیں گے “ ، پھر فرمایا : ” میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا کچھ لوگ میرے حوض سے بھولے بھٹکے اونٹ کی طرح ہانک دئیے جائیں گے ، میں انہیں پکاروں گا کہ ادھر آؤ ، تو کہا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے بعد دین کو بدل دیا ، اور وہ الٹے پاؤں لوٹ جائیں گے ، میں کہوں گا : خبردار ! دور ہٹو ، دور ہٹو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14034 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/300 ، 375 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔