حدیث نمبر: 4242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَأَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنُؤَاخَذُ بِمَا كُنَّا نَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ , لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا ، جو ہم نے ( زمانہ ) جاہلیت میں کئے تھے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے ( دل سے اسلام لے آیا ) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا ، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے ، ( کفر پر قائم رہا ہے ) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4243
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ , سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ , إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ , فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” حقیر و معمولی گناہوں سے بچو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا بھی مواخذہ ہو گا “ ۔
حدیث نمبر: 4244
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل , وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ , فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ , صُقِلَ قَلْبُهُ , فَإِنْ زَادَ زَادَتْ , فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کرے ، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے ، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے ، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے : «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ” ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں “ ( سورة المطففين : 14 ) “ ۔
حدیث نمبر: 4245
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ خَدِيجٍ الْمَعَافِرِيُّ , عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَلْهَانِيِّ , عَنْ ثَوْبَانَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ , بِيضًا , فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا " , قَالَ ثَوْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , صِفْهُمْ لَنَا , جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ , قَالَ : " أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ , وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ , وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا “ ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں ، اور تمہاری قوم میں سے ہیں ، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے ، جیسے تم عبادت کرتے ہو ، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے “ ۔
حدیث نمبر: 4246
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِيهِ , وَعَمِّهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " التَّقْوَى وَحُسْنُ الْخُلُقِ " وَسُئِلَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ , قَالَ : " الْأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سے کام لوگوں کو زیادہ تر جنت میں داخل کریں گے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تقویٰ ( اللہ تعالیٰ کا خوف ) اور حسن خلق ( اچھے اخلاق ) “ ، اور پوچھا گیا : کون سے کام زیادہ تر آدمی کو جہنم میں لے جائیں گے ؟ فرمایا : ” دو کھوکھلی چیزیں : منہ اور شرمگاہ “ ۔