حدیث نمبر: 4186
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ , دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا ، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے “ ۔
حدیث نمبر: 4187
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عُمَارَةَ الْعَبْدِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَتَتْكُمْ وُفُودُ عَبْدِ الْقَيْسِ " , وَمَا يَرَى أَحَدٌ فِينَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا فَنَزَلُوا , فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ الْأَشَجُّ الْعَصَرِيُّ , فَجَاءَ بَعْدُ فَنَزَلَ مَنْزِلًا , فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ ثِيَابَهُ جَانِبًا , ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَشَجُّ , إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمَ وَالتُّؤَدَةَ " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ حَدَثَ لِي , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں ، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا ، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے ، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ، وہ بعد میں آئے ، ایک مقام پر اترے ، اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اشج ! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے : ایک تو حلم و بردباری ، دوسری طمانینت و سہولت ، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ پیدائشی ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حلم اور وقار انسان میں فطری ہوتا ہے، اسی طرح غصہ اور جلد بازی بھی پیدائشی فطری ہوتے ہیں، لیکن اگر آدمی محنت کرے اور نفس پر بار ڈالے تو بری صفات اور برے اخلاق دور ہو سکتے ہیں، یا کم ہو سکتے ہیں،محققین علماء کا یہی قول ہے، اور اگر برے اخلاق کا علاج ممکن نہ ہوتا تو تعلیم اخلاق،محنت و ریاضت اور مجاہدہ کا کچھ فائدہ ہی نہ ہوتا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ فطری عیوب بہت مشکل سے جاتے ہیں، یا کم ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4188
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ , حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِلْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ : " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمَ وَالْحَيَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عصری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں : ایک حلم اور دوسری حیاء “ ۔
حدیث نمبر: 4189
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ جُرْعَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا عِنْدَ اللَّهِ , مِنْ جُرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا عَبْدٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی گھونٹ پینے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غصہ کا گھونٹ پینے کا ہے “ ۔