کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: توکل اور یقین کا بیان۔
حدیث نمبر: 4164
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ , عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ , لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ , تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے ، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے ، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الزھد 33 ( 2344 ) ، ( تحفة الأشراف : 10586 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/30 ، 52 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي شُرَحْبِيلَ , عَنْ حَبَّةَ , وَسَوَاءٍ ابْنَيْ خَالِدٍ , قَالَا : دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ , فَقَالَ : " لَا تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا , فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ , ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں ، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے ، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3292 ، ومصباح الزجاجة : 1477 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/469 ) ( ضعیف ) » ( سلام بن شرحبیل لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 4166
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ زُرَيْقٍ الْعَطَّارُ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةً , فَمَنِ اتَّبَعَ قَلْبُهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا , لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ , وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ التَّشَعُّبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم کے دل میں دنیا کی ہر چیز کی خواہش ہوتی ہے ، جس نے اپنا دل تمام خواہشات کے پیچھے لگا دیا ، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ اس کو کس وادی میں ہلاک کرے ، اور جس نے اللہ پر بھروسہ کر لیا تو ہر طرح کی خواہش کی فکر اس سے جاتی رہے گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, صالح بن رزيق:مجهول (تقريب: 2859) وقال الذهبي: ’’ وعنه الكوسج فقط بحديث منكر ‘‘ (ميزان الإعتدال 2/ 294) والسند ضعفه البوصيري من أجل صالح ھذا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10741 ، ومصباح الزجاجة : 1478 ) ( ضعیف ) » ( سند میں صالح بن زریق مجہول ہیں ، اور ان کی حدیث منکر ہے ، قالہ الذہبی ، اور سعید بن عبدالرحمن ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 4167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان ( حسن ظن ) رکھتا ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمہا 19 ( 2877 ) ، سنن ابی داود/الجنائز 17 ( 3113 ) ، ( تحفة الأشراف : 2295 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/293 ، 325 ، 330 ، 334 ، 390 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ , خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ , وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ , وَلَا تَعْجِزْ , فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ , وَإِيَّاكَ وَاللَّوْ , فَإِنَّ اللَّوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور و ناتواں مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے ، اور ہر ایک میں بھلائی ہے ، تم اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں فائدہ پہنچائے ، اور عاجز نہ بنو ، اگر مغلوب ہو جاؤ تو کہو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے ، جو اس نے چاہا کیا ، اور لفظ ” اگر مگر “ سے گریز کرو ، کیونکہ ” اگر مگر “ شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4168
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13952 ) ، قد أخرجہ : صحیح مسلم/القدر 8 ( 2664 ) ، مسند احمد ( 2/366 ، 370 ) ( صحیح ) »