کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4160
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ : مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا , فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " , فَقُلْتُ : خُصٌّ لَنَا وَهَى , نَحْنُ نُصْلِحُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أُرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : ” یہ کیا ہے “ ؟ میں نے کہا : یہ ہماری جھونپڑی ہے ، ہم اس کو درست کر رہے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آ سکتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأدب 169 ( 5235 ، 5236 ) ، سنن الترمذی/الزہد 25 ( 2335 ) ، ( تحفة الأشراف : 8650 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/161 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4161
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ , حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " , قَالُوا : قُبَّةٌ بَنَاهَا فُلَانٌ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَالٍ يَكُونُ هَكَذَا , فَهُوَ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , فَبَلَغَ الْأَنْصَارِيَّ ذَلِكَ فَوَضَعَهَا , فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ , فَلَمْ يَرَهَا , فَسَأَلَ عَنْهَا , فَأُخْبِرَ أَنَّهُ وَضَعَهَا لِمَا بَلَغَهُ عَنْكَ , فَقَالَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ ! يَرْحَمُهُ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے ، تو سوال کیا : ” یہ کیا ہے “ ؟ لوگوں نے کہا : یہ گول گھر ہے ، اس کو فلاں نے بنایا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مال اس طرح خرچ ہو گا ، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا ، انصاری کو اس کی خبر پہنچی ، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا ، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے ، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی ، تو اس نے اسے ڈھا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، اللہ اس پر رحم کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل, و حديث أبي داود (5237) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 196 ، ومصباح الزجاجة : 1476 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأدب 169 ( 5237 ) مطولاً ( صحیح ) » ( سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 2830 ، سنن ابی داود : میں «يرحمه الله» کا لفظ نہیں ہے اس کی جگہ پر یہ الفاظ ہیں : «كل بناء وبال على صاحبه إلا مالاً» یعنی «إلا ما لا بد منه» )
حدیث نمبر: 4162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بِنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ , عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَنَيْتُ بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ الْمَطَرِ , وَيُكِنُّنِي مِنَ الشَّمْسِ , مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ خَلْقُ اللَّهِ تَعَالَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے ، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں ( گھر بنانے میں ) کوئی مدد نہیں کی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الاستئذان 53 ( 6302 ) ، ( تحفة الأشراف : 7076 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4163
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ , قَالَ : أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ , فَقَالَ : لَقَدْ طَالَ سَقْمِي وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا تَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ , وَقَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلَّا فِي التُّرَابِ , أَوْ قَالَ : " فِي الْبِنَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ` ہم خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے ، تو آپ کہنے لگے کہ میرا مرض طویل ہو گیا ہے ، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” تم موت کی تمنا نہ کرو “ تو میں ضرور اس کی آرزو کرتا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندے کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے “ ، یا فرمایا : ” عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الجنائز 3 ( 970 ) ، صفة القیامة 40 ( 2883 ) ، ( تحفة الأشراف : 3511 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/109 ، 110 ، 111 ، 6/395 ) ( صحیح ) » ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1 283 )