حدیث نمبر: 4155
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَأَبُو كُرَيْبٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ , فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا يَتَحَامَلُ حَتَّى يَجِيءَ بِالْمُدِّ , وَإِنَّ لِأَحَدِهِمُ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ " , قَالَ شَقِيقٌ : كَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کا حکم دیتے تو ہم میں سے ایک شخص حمالی کرنے جاتا ، یہاں تک کہ ایک مد کما کر لاتا ، ( اور صدقہ کر دیتا ) اور آج ان میں سے ایک کے پاس ایک لاکھ نقد موجود ہے ، ابووائل شقیق کہتے ہیں : گویا کہ وہ اپنی ہی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔
حدیث نمبر: 4156
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي نَعَامَةَ , سَمِعَهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ , قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ , عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ , حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ` عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا : میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا ، یہاں تک کہ ( اس کے پتے کھانے سے ) ہمارے مسوڑھے زخمی ہو جاتے ۔
حدیث نمبر: 4157
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ وَهُمْ سَبْعَةٌ , قَالَ : " فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ , لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں دیں ، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں ہے کہ سب کو سات سات کھجوریں دیں۔
حدیث نمبر: 4158
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8 , قَالَ الزُّبَيْرُ : " وَأَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ , وَإِنَّمَا هُوَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ " , قَالَ : أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت : «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ” پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا “ ( سورة اتكاثر : 8 ) نازل ہوئی ، تو انہوں نے کہا : کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں : پانی اور کھجور ہی میسر ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی “ ۔
حدیث نمبر: 4159
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ , نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا , فَفَنِيَ أَزْوَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا تَمْرَةٌ , فَقِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا , وَأَتَيْنَا الْبَحْرَ , فَإِذَا نَحْنُ بِحُوتٍ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو آدمیوں کو روانہ کیا ، ہم نے اپنے توشے اپنی گردنوں پر لاد رکھے تھے ، ہمارا توشہ ختم ہو گیا ، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کو ایک کھجور ملتی ، کسی نے پوچھا : ابوعبداللہ ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا ؟ جواب دیا : جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی ، ہم سمندر تک آئے ، آخر ہمیں ایک مچھلی ملی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا ، ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور موٹے تازے ہو گئے، مچھلی اتنی بڑی تھی کہ اس کی پیٹھ کی دونوں ہڈیوں میں سے اونٹ نکل جاتا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب مدینہ لوٹ کر آئے تو رسول اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” یہ اللہ تعالیٰ نے تم کو کھانا بھیجا تھا “۔