کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4151
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَأَبُو خَالِدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا ، اور اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «حدیث أبي خالد أخرجہ : سنن ابی داود/اللباس 45 ( 4146 ) ، ( تحفة الأشراف : 16951 ) ، وحدیث عبد اللہ بن نمیر أخرجہ : صحیح مسلم/اللباس 17 ( 2082 ) ، ( تحفة الأشراف : 16984 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الرقاق 16 ( 6456 ) ، سنن الترمذی/اللباس 27 ( 1761 ) ، صفة القیامة 32 ( 2469 ) ، مسند احمد ( 6/48 ، 56 ، 73 ، 108 ، 207 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4152
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيٍّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَى عَلِيًّا , وَفَاطِمَةَ وَهُمَا فِي خَمِيلٍ لَهُمَا , وَالْخَمِيلُ : الْقَطِيفَةُ الْبَيْضَاءُ مِنَ الصُّوفِ , قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَهُمَا بِهَا , وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ إِذْخِرًا وَقِرْبَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی اور فاطمہ ( رضی اللہ عنہما ) کے پاس آئے ، وہ دونوں اپنی «خمیل» ( سفید اونی چادر کو کہتے ہیں ) اوڑھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ چادر تھی ، اذخر کی گھاس بھرا ایک تکیہ اور پانی رکھنے کی ایک مشک شادی کے وقت دی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4152
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/النکاح 81 ( 3386 ) ، ( تحفة الأشراف : 10104 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/84 ، 93 ، 108 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ , حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ , قَالَ : فَجَلَسْتُ , فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارٌ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ , وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبهِ , وَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ , وَقَرَظٍ فِي نَاحِيَةٍ فِي الْغُرْفَةِ , وَإِذَا إِهَابٌ مُعَلَّقٌ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ , فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " , فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَمَالِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ , وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا أَرَى , وَذَلِكَ كِسْرَى وَقَيْصَرُ فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ , وَأَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ , قَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ , أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا ؟ " , قُلْتُ : بَلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں آ کر بیٹھ گیا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک تہہ بند پہنے ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ کوئی چیز آپ کے جسم پر نہیں ہے ، چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے تھے ، اور میں نے دیکھا کہ ایک صاع کے بقدر تھوڑا سا جو تھا ، کمرہ کے ایک کونے میں ببول کے پتے تھے ، اور ایک مشک لٹک رہی تھی ، میری آنکھیں بھر آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن خطاب : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ روؤں ، اس چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے ہیں ، یہ آپ کا اثاثہ ( پونجی ) ہے جس میں بس یہ یہ چیزیں نظر آ رہی ہیں ، اور وہ قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں آرام سے رہ رہے ہیں ، آپ تو اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کے برگزیدہ ہیں ، اور یہ آپ کی سارا اثاثہ ( پونجی ) ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے یہ سب کچھ آخرت میں ہو ، اور ان کے لیے دنیا میں “ ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: راضی ہوں، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کو تسلی اور تشفی ہو گئی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10500 ) ( حسن ) »
حدیث نمبر: 4154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ الْحَارِثِ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : " أُهْدِيَتِ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ , فَمَا كَانَ فِرَاشُنَا , لَيْلَةَ أُهْدِيَتْ , إِلَّا مَسْكَ كَبْشٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ ) میرے پاس رخصت کی گئیں تو رخصتی کی رات ہمارا بستر صرف بھیڑ کی ایک کھال تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف الحارث الأعور و مجالد‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10037 ، ومصباح الزجاجة : 1475 ) ( ضعیف ) » ( سند میں حارث اعور اور مجالد دونوں ضعیف ہیں )