حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَأَبُو كُرَيْبٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " وَيْلٌ لِلْمُكْثِرِينَ , إِلَّا مَنْ قَالَ : بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا , وَهَكَذَا وَهَكَذَا " أَرْبَعٌ عَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ شِمَالِهِ , وَمِنْ قُدَّامِهِ , وَمِنْ وَرَائِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہے زیادہ مال والوں کے لیے سوائے اس کے جو مال اپنے اس طرف ، اس طرف ، اس طرف اور اس طرف خرچ کرے ، دائیں ، بائیں ، اور اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف خرچ کرے “ ۔
حدیث نمبر: 4130
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ , حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَكْثَرُونَ هُمُ الْأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ : هَكَذَا وَهَكَذَا , وَكَسَبَهُ مِنْ طَيِّبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیادہ مال والے لوگ قیامت کے دن سب سے کمتر درجہ والے ہوں گے ، مگر جو مال کو اس طرح اور اس طرح کرے اور اسے حلال طریقے سے کمائے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 4131
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَكْثَرُونَ هُمُ الْأَسْفَلُونَ , إِلَّا مَنْ قَالَ : هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " , ثَلَاثًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیادہ مال والے ہی سب سے نیچے درجے والے ہوں گے مگر جو اس طرح کرے ، اس طرح کرے اور اس طرح کرے ، ( یعنی کثرت سے صدقہ و خیرات کرے ) تین بار اشارہ فرمایا ۔
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا , فَتَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ , وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ , إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي قَضَاءِ دَيْنٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن آئے تو میرے پاس اس میں سے کچھ باقی رہے ، سوائے اس کے جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: باقی سب فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دوں، مال کا جوڑ رکھنا آپ ﷺ کو نہایت ناپسند تھا چنانچہ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دن آپ ﷺ عصر پڑھتے ہی لوگوں کی گردنوں پر سے پھاندتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کچھ مال میرے پاس بھول کر رہ گیا تھا، وہ یاد آیا تو میں نے اس کے تقسیم کر دینے کے لیے اس قدر جلدی کی، نبی اکرم ﷺ کی نبوت پر سخاوت بھی عمدہ دلیل ہے کیونکہ غیر نبی میں ایسے سارے عمدہ اخلاق ہرگز جمع نہیں ہو سکتے۔
حدیث نمبر: 4133
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي , وَعَلِمَ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ , فَأَقْلِلْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ , وَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ , وَعَجِّلْ لَهُ الْقَضَاءَ , وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَمْ يُصَدِّقْنِي , وَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ , فَأَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ , وَأَطِلْ عُمُرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن غیلان ثقفی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! جو مجھ پر ایمان لائے ، میری تصدیق کرے ، اور اس بات پر یقین رکھے کہ جو کچھ میں لایا ہوں وہی حق ہے ، اور وہ تیری جانب سے ہے تو اس کے مال اور اولاد میں کمی کر ، اپنی ملاقات کو اس کے لیے محبوب بنا دے ، اس کی موت میں جلدی کر ، اور جو مجھ پر ایمان نہ لائے ، میری تصدیق نہ کرے ، اور نہ اس بات پر یقین رکھے کہ جو میں لے کر آیا ہوں وہی حق ہے ، تیری جانب سے اترا ہے ، تو اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر دے ، اور اس کی عمر لمبی کر “ ۔
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ , حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ , عَنْ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ , عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً , فَرَدَّهُ , ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ آخَرَ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ , فَلَمَّا أَبْصَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ بَعَثَ بِهَا " , قَالَ نُقَادَةُ : فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا ؟ قَالَ : " وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا " , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ " , لِلْمَانِعِ الْأَوَّلِ , " وَاجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ " لِلَّذِي بَعَثَ بِالنَّاقَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شخص کے پاس اونٹنی مانگنے کے لیے بھیجا ، لیکن اس نے انکار کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیجا تو اس نے ایک اونٹنی بھیج دی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے اور جس نے اس کو بھیجا ہے اس میں بھی برکت عطا کرے “ ۔ نقادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : یہ بھی دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی برکت دے جو اسے لے آیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں جو اسے لایا ہے اس کو بھی برکت دے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا ، اس نے بہت دودھ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! ( پہلے اونٹنی نہ دینے والا شخص ) کا مال زیادہ کر دے ، اور جس نے اونٹنی بھیجی ہے اس کو رزق یومیہ دے “ ۔
حدیث نمبر: 4135
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ , وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ , وَعَبْدُ الْقَطِيفَةِ , وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ , إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ , وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہلاک ہوا دینار و درہم کا بندہ اور چادر اور شال کا بندہ ، اگر اس کو یہ چیزیں دے دی جائیں تو خوش رہے ، اور اگر نہ دی جائیں تو ( اپنا عہد ) پورا نہ کرے “ ۔
حدیث نمبر: 4136
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ , وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ , وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ , تَعِسَ وَانْتَكَسَ , وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہلاک ہوا دینار کا بندہ ، درہم کا بندہ اور شال کا بندہ ، وہ ہلاک ہو اور ( جہنم میں ) اوندھے منہ گرے ، اگر اس کو کوئی کانٹا چبھ جائے تو کبھی نہ نکلے “ ۔