کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: فقراء کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 4120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ : مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ " , قَالُوا : رَأْيَكَ فِي هَذَا , نَقُولُ : هَذَا مِنْ أَشْرَفِ النَّاسِ , هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُخَطَّبَ , وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ , وَإِنْ قَالَ , أَنْ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ , فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَرَّ رَجُلٌ آخَرُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا " , قَالُوا : نَقُولُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ : هَذَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ , هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ لَمْ يُنْكَحْ , وَإِنْ شَفَعَ لَا يُشَفَّعْ , وَإِنْ قَالَ لَا يُسْمَعْ لِقَوْلِهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے “ ؟ لوگوں نے کہا : جو آپ کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے ، ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ شریف لوگوں میں سے ہے ، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اسے قبول کیا جائے ، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے ، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، پھر ایک دوسرا شخص گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! یہ تو مسلمانوں کے فقراء میں سے ہے ، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام دے تو اس کا پیغام قبول نہ کیا جائے ، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے ، اور اگر کچھ کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس پہلے جیسے زمین بھر آدمیوں سے بہتر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/النکاح 15 ( 5091 ) ، ( تحفة الأشراف : 4720 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ , أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِن , الْفَقِيرَ , الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ اپنے مومن ، فقیر ( محتاج ) ، سوال سے بچنے والے اور اہل و عیال والے بندے کو محبوب رکھتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, موسي بن عبيدة: ضعيف, والقاسم بن مهران: لم يثبت سماعه من عمران وللحديث شاهد ضعيف جدًا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 525
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10835 ، ومصباح الزجاجة : 1459 ) ( ضعیف ) » ( حماد و موسیٰ بن عبیدہ دونوں ضعیف ہیں ، اور قاسم بن مہران مجہول ، بالخصوص قاسم کا عمران رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے )