حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ مُلُوكِ الْجَنَّةِ ؟ " , قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : " رَجُلٌ ضَعِيفٌ مُسْتَضْعِفٌ ذُو طِمْرَيْنِ , لَا يُؤْبَهُ لَهُ , لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم کو جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتا دوں “ ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کمزور و ناتواں شخص دو پرانے کپڑے پہنے ہو جس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے ، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری کرے “ ۔
حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ , كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ , أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ , كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں “ ؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر وہ سخت مزاج ، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے ، اور تکبر کرنے والا “ ۔
حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي , مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ , غَامِضٌ فِي النَّاسِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ , كَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا وَصَبَرَ عَلَيْهِ , عَجِلَتْ مَنِيَّتُهُ , وَقَلَّ تُرَاثُهُ , وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے ، جو مال و دولت آل و اولاد سے ہلکا پھلکا ہو ، جس کو نماز میں راحت ملتی ہو ، لوگوں میں گم نام ہو ، اور لوگ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوں ، اس کا رزق بس گزر بسر کے لیے کافی ہو ، وہ اس پر صبر کرے ، اس کی موت جلدی آ جائے ، اس کی میراث کم ہو ، اور اس پر رونے والے کم ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 4118
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ الْحَارِثِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَان " , قَالَ : الْبَذَاذَةُ الْقَشَافَةُ يَعْنِي : التَّقَشُّفَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے “ ایمان کا ایک حصہ ہے ، سادگی بے جا تکلف کے معنی میں ہے ، یعنی زیب و زینت و آرائش سے گریز کرنا ۔
حدیث نمبر: 4119
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا , ذُكِرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : ضرور ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آئے “ ۔