کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: صدقہ فطر بڑوں اور چھوٹوں پر واجب ہے۔
حدیث نمبر: Q1512
n
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ابوعمرو نے بیان کیا کہ عمر ‘ علی ‘ ابن عمر ‘ جابر ‘ عائشہ ‘ طاؤس ‘ عطاء اور ابن سیرین رضی اللہ عنہم کا خیال یہ تھا کہ یتیم کے مال سے بھی زکوٰۃ دی جائے گی ۔ اور زہری دیوانے کے مال سے زکوٰۃ نکالنے کے قائل تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: Q1512
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے عبیداللہ عمری کے واسطے سے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور کا صدقہ فطر ، چھوٹے ، بڑے ، آزاد اور غلام سب پر فرض قرار دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: 1512
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة