کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q1500
وَمُحَاسَبَةِ الْمُصَدِّقِينَ مَعَ الإِمَامِ:
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ان کو حاکم کے سامنے حساب سمجھانا ہو گا ۔ یہاں کان اور رکاز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ بیان فرمایا ۔ اور یہی باب کا مطلب ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: Q1500
حدیث نمبر: 1500
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَسْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ ( عروہ بن زبیر ) نے بیان کیا ‘ ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسد کے ایک شخص عبداللہ بن لتبیہ کو بنی سلیم کی زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر فرمایا ۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حساب لیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الزكاة / حدیث: 1500
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة