کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ , فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ , قَالَ : فَقُلْتُ : مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ , فَقَالَ : " إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ , اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا , وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا , حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ , فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ , فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ , فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا , فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا , فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا ، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں ، اور آپ کا رنگ بدل گیا ، میں نے عرض کیا : ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے ( یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے ، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت ، سختی ، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے ، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے ، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے ، وہ خیر ( خزانہ ) طلب کریں گے ، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے ، اور ( اللہ کی طرف سے ) ان کی مدد ہو گی ، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا ، ( یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے ) ، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے ، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ( لشکر میں ) شریک ہو ، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد بن أبي زياد:ضعيف, ولم تثبت متابعة الحكم له،في السند إليه عبد اللّٰه بن داهر: رافضي خبيث متهم (انظر ميزان الإعتدال 416/2), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9462 ، ومصباح الزجاجة : 1441 ) ( ضعیف ) » ( سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ , إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ , فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ , تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا , وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ , فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي , فَيَقُولُ : خُذْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں مہدی ہوں گے ، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے ، ورنہ نو برس رہیں گے ، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی ، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی ، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی ، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا ، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا : اے مہدی ! مجھے کچھ دیں ، وہ جواب دیں گے : لے لو ( اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے ) “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخرالزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاریٰ سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہو جائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2232), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الفتن 53 ( 2232 ) ، ( تحفة الأشراف : 3976 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المھدي 1 ( 4285 ) ، مسند احمد ( 3/21 ، 26 ) ( حسن ) ( سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے ) »
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ , عَنْ ثَوْبَانَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ , كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ , ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ , ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ , فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ , ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ , فَقَالَ : فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ , وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ , فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے ، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا ، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا ، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے ، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا ، اس کے بعد آپ نے فرمایا : ” لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4084
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الثوري عنعن, ولبعض الحديث شواهد, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2111 ، ومصباح الزجاجة : 1442 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابوقلابہ مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، ا س لئے یہ ضعیف ہے لیکن حدیث کا معنی ابن ماجہ کی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے ، اس حدیث میں «فإنه خليفة الله المهدي» کا لفظ صحیح نہیں ہے ، جس کی روایت میں ابن ماجہ یہاں منفرد ہیں ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 85 )
حدیث نمبر: 4085
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , حَدَّثَنَا يَاسِينُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ , يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10270 ، ومصباح الزجاجة : 1443 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/84 ) ( حسن ) » ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 237 )
حدیث نمبر: 4086
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ , عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ , فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ , فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` ہم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، ہم نے مہدی کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4086
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/المھدي 1 ( 4284 ) ، ( تحفة الأشراف : 18153 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 4087
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْيَمَامِيِّ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " نَحْنُ وَلَدَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ , أَنَا , وَحَمْزَةُ , وَعَلِيٌّ , وَجَعْفَرٌ , وَالْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ , وَالْمَهْدِيُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں ، اور اہل جنت کے سردار ہیں ، یعنی : میں ، حمزہ ، علی ، جعفر ، حسن ، حسین اور مہدی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4087
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: موضوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, علي بن زياداليمامي: ضعيف (تقريب: 4733 ب) ضعفه الجمهور وعكرمة بن عمارمدلس و عنعن, وللحديث شاهد منكر جدًا عند الخطيب (434/9), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 195 ، ومصباح الزجاجة : 1444 ) ( موضوع ) » ( علی بن زیاد ضعیف اور سعد بن عبد الحمید صدوق ہیں ، لیکن ان کے یہاں غلط احادیث ہیں ، اور عکرمہ بن عمار صدوق ہیں غلطی کرتے ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 4688 )
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنَ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ , فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ " يَعْنِي : سُلْطَانَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ لوگ مشرق ( پورب ) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4088
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمرو بن جابر: ضعيف شيعي, وابن لهيعة عنعن, وللحديث شاهد ضعيف في حلية الأولياء (53/6), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 523
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5237 ، ومصباح الزجاجة : 1445 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عمرو بن جابر الحضرمی اور ابن لہیعہ ضعیف ہیں )