کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: بادل اور بارش دیکھنے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3889
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا رَأَى سَحَابًا مُقْبِلًا مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ , تَرَكَ مَا هُوَ فِيهِ , وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ , حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ , فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ " , فَإِنْ أَمْطَرَ , قَالَ : " اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا " , مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً , وَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُمْطِرْ , " حَمِدَ اللَّهَ " عَلَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے ، یہاں تک کہ اگر نماز میں ( بھی ) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے ، اور یہ دعا ما نگتے : «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» ” اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے “ پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے : «اللهم سيبا نافعا» ” اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما “ ، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگلی امتوں پر بادل کی شکل میں اللہ کا عذاب آیا تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ جب بادل دیکھتے تو عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3889
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأدب 113 ( 5099 ) ، سنن النسائی/الاستسقاء 15 ( 1522 ) ، ( تحفة الأشراف : 16146 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/بدء الخلق 5 ( 3206 ) ، تفسیرسورةالأحقاف 2 ( 4829 ) ، الأدب 68 ( 5099 ) ، صحیح مسلم/الاستسقاء 3 ( 899 ) ، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 46 ( 3257 ) ، مسند احمد ( 6/190 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے : «اللهم اجعله صيبا هنيئا» ” اے اللہ ! تو اس کو جاری اور بابرکت بنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3890
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الاستسقاء 23 ( 1032 ) ، ( تحفة الأشراف : 17558 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/90 ، 119 ، 129 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3891
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَأَى مَخِيلَةً , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ , فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ : فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ سورة الأحقاف آية 24 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا ، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر ، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے ، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ تجھے کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا : «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» ” تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا ، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ چیز ( یعنی عذاب ) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “ ( سورۃ الاحقاف : ۲۴ ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3891
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/ الاستسقاء 3 ( 899 ) ، سنن الترمذی/الدعوات 42 ( 3449 ) ، ( تحفة الأشراف : 17385 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/240 ) ( صحیح ) »