حدیث نمبر: 3713
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ سَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ , فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَطَسَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ , فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَلَمْ تُشَمِّتِ الْآخَرَ , فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ , وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے جواب میں «يرحمك الله» ” اللہ تم پر رحم کرے “ کہا ، اور دوسرے کو جواب نہیں دیا ، تو عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا ، آپ نے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا ، اس کا سبب کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک نے ( چھینکنے کے بعد ) «الحمد لله» کہا ، اور دوسرے نے نہیں کہا “ ۔
حدیث نمبر: 3714
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ , عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ , عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ ثَلَاثًا فَمَا زَادَ ، فَهُوَ مَزْكُومٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھینکنے والے کو تین مرتبہ جواب دیا جائے ، جو اس سے زیادہ چھینکے تو اسے زکام ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3715
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ , وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے ، اس کے پاس موجود لوگ «يرحمك الله» کہیں ، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» ” اللہ تمہیں ہدایت دے ، اور تمہاری حالت درست کرے “ ۔