کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: گھر میں تصاویر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3649
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أَبِي طَلْحَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: وہ کتے جو کھیت اورجائداد کی رکھوالی، یا شکار کے لئے ہوں اس ممانعت کے حکم سے مستثنیٰ ہیں، اور تصویر سے بے جان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 ( 3225 ) ، 17 ( 3322 ) ، المغازي 12 ( 4002 ) ، اللباس 88 ( 5949 ) ، 92 ( 5958 ) ، صحیح مسلم/اللباس 26 ( 2106 ) ، سنن ابی داود/اللباس 48 ( 4153 ) ، سنن الترمذی/الأدب 44 ( 2804 ) ، سنن النسائی/الصید والذبائح 11 ( 4287 ) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 57 ( 5349 ) ، ( تحفة الأشراف : 3779 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستئذان 3 ( 6 ) ، مسند احمد ( 4/28 ، 29 ، 30 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3650
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی رحمت کے فرشتے جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت کی وجہ سے آتے ہیں وہ اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے نفرت ہے اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ جہاں کتا یا مورت ہو وہاں فرشتہ مطلق داخل ہی نہیں ہوتا، اگرچہ اس کو حکم دے دیا گیا ہو، ورنہ لازم آتا ہے جس کوٹھری میں کتا یا تصویر ہو وہاں کوئی نہ مرے کیونکہ موت کا فرشتہ اس کوٹھری کے اندر نہ آ سکے گا، واضح رہے یہ فرشتوں کے شوق و محبت سے اور اللہ کی رحمت لے کر گھر میں داخل ہونے کی بات ہے ورنہ جب ان کو حکم الہی ہوتا ہے تو کتا اور مورت کیا پاخانہ اور غلاظت خانہ میں بھی جا کر روح قبض کر لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 90 ( 227 ) ، اللباس 48 ( 4152 ) ، سنن النسائی/الطہارة 168 ( 262 ) ، الصید 11 ( 4286 ) ، ( تحفة الأشراف : 10291 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/83 ، 104 ) ، سنن الدارمی/الاستئذان 34 ( 2705 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3651
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ , فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ , فَقَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ " , قَالَ : إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا , وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے ، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ، دیکھا تو جبرائیل علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا ؟ فرمایا : ” گھر میں کتا ہے ، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17761 ، ومصباح الزجاجة : 1267 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/142 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3652
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ , أَنَّ زَوْجَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي , " فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تُصَوِّرَ فِي بَيْتِهَا نَخْلَ , فَمَنَعَهَا أَوْ نَهَاهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ اس کا شوہر کسی جنگ میں گیا ہوا ہے ، اور اپنے گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنانے کی اجازت طلب کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا یا روک دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عفير بن معدان:ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4873 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عفیر بن معدان ضعیف راوی ہیں )