کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ . ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ كُلُّهُمْ , عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ , قَالَ : أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ , وَلَا عَصَبٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱ ؎: حدیث میں «إِهَاب» کا لفظ آیا ہے، اور نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ «إِهَاب» اسی کھال کو کہا جاتا جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جس کی دباغت ہو جائے اسے «إِهَاب» نہیں کہتے، بلکہ اسے «شن» یا «قربہ» کہا جاتا ہے، لہذا اس حدیث میں «إِهَاب» یعنی بغیر دباغت والے چمڑے کا ذکر ہے، اس «إِهَاب» یعنی کچے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں،لیکن دوسری صحیح حدیثوں میں مشروط طریقے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ یہ کہ حلال مردہ جانوروں کے چمڑے کو پہلے دباغت دے دیں، پھر اس سے فائدہ اٹھائیں لفظ «إِهَاب» کی وضاحت کے بعد حدیث میں کسی طرح کا نہ کوئی تعارض ہے اور نہ ہی اشکال۔