حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ , فَقَدْ طَهُرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جو حلال جانور ہیں ان کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ شَاةً لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ , مَرَّ بِهَا يَعْنِي : النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً , فَقَالَ : " هَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ " , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا مَيْتَةٌ , قَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو مردار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف اس کا کھانا حرام ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مرے ہوئے ماکول اللحم جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کے چمڑے سے دباغت کے بعد ہر طرح کا فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ بیچ کر ہو یا ذاتی استعمال میں لا کر۔
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ سَلْمَانَ , قَالَ : كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ , فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَ : " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا “ ۔
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا : ” جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے ، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں “ ۔