حدیث نمبر: 3601
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْمُفَدَّمِ " , قَالَ يَزِيدُ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا الْمُفَدَّمُ ؟ قَالَ : الْمُشْبَعُ بِالْعُصْفُرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے ، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا : «مفدم» کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱ ؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلکا سرخ رنگ «کسم» کا بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 3602
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ , عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا ، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ۔
حدیث نمبر: 3603
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ , فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " , فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ , فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ , فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ , مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ " , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ : " أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ , فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ، آپ میری طرف متوجہ ہوئے ، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہے “ ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا ، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا ، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے ، میں نے اسے اس میں ڈال دیا ، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبداللہ ! چادر کیا ہوئی “ ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی ؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: اذاخر: مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔