کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3547
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وَهْيبٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا , قَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے : «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» ” میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “ تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3547
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 16 ( 2708 ) ، سنن الترمذی/الدعوات 41 ( 3437 ) ، ( تحفة الأشراف : 15826 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/ 337 ، 378 ، 409 ) ، سنن الدارمی/الاستئذان 48 ( 2722 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ , قَالَ : لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ , جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَيْءٌ فِي صَلَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " ابْنُ أَبِي الْعَاصِ " , قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَرَضَ لِي شَيْءٌ فِي صَلَوَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , قَالَ : " ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ " , فَدَنَوْتُ مِنْهُ , فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيَّ , قَالَ : فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ , وَتَفَلَ فِي فَمِي , وَقَالَ : " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ " , فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَقْ بِعَمَلِكَ " , قَالَ : فَقَالَ عُثْمَانُ : فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا ، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں ، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا ابن ابی العاص ہو “ ؟ ، میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ نے سوال کیا : ” تم یہاں کیوں آئے ہو “ ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شیطان ہے ، تم میرے قریب آؤ ، میں آپ کے قریب ہوا ، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا ، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا : «اخرج عدو الله» ” اللہ کے دشمن ! نکل جا “ ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا ، اس کے بعد مجھ سے فرمایا : ” اپنے کام پر جاؤ “ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قسم سے ! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9767 ، ومصباح الزجاجة : 1238 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3549
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِيهِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ : إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا , قَالَ : " مَا وَجَعُ أَخِيكَ ؟ " , قَالَ : بِهِ لَمَمٌ , قَالَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ " , قَالَ : فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِ , فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَسَمِعْتُهُ : " عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ , وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ سورة البقرة آية 163 , وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ , وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ خَاتِمَتِهَا , وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ " , أَحْسِبُهُ قَالَ : " شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة آل عمران آية 18 , وَآيَةٍ مِنْ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سورة الأعراف آية 54 , وَآيَةٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ سورة المؤمنون آية 117 , وَآيَةٍ مِنْ الْجِنِّ : وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلا وَلَدًا سورة الجن آية 3 , وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْحَشْرِ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ والمعوذتين " , فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ , قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا : میرا ایک بیمار بھائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : ” تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے “ ؟ وہ بولا : اسے آسیب ہو گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے لے کر آؤ “ ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ( اعرابی ) گیا اور اسے لے آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا ، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا ، سورۃ فاتحہ ، سورۃ البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں ، اور «وإلهكم إله واحد» والی آیت ، آیت الکرسی ، پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات ، آل عمران کی آیت ( جو میرے خیال میں ) «شهد الله أنه لا إله إلا هو» ہے ، سورۃ الاعراف کی آیت «إن ربكم الله الذي خلق» ، سورۃ مومنون کی آیت «ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به» ، سورۃ الجن کی آیت «وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا» اور سورۃ الصافات کے شروع کی دس آیات ، اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات ، سورۃ «قل هو الله أحد» اور معوذتین کے ذریعے ، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہو گیا ، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو جناب بن أبي حية: ضعيف مدلس كما قال البوصيري (انظر ضعيف سنن أبي داود: 551) ولأبي جناب لون آخر في زوائد المسند لأحمد (128/5), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12154 ، ومصباح الزجاجة : 1239 ) ( منکر ) » ( سند میں ابو جناب الکلبی کثرت تدلیس کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں )