حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , ومحمد بن خلف العسقلاني , قَالُوا : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ , فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ , ثُمَّ قَالَ : " كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا ، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا ، پھر اس سے کہا : ” کھاؤ ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 3543
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ جَمِيعًا , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جذامیوں ( کوڑھیوں ) کی طرف لگاتار مت دیکھو “ ۔
حدیث نمبر: 3544
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْنَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا : ” تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ زیادہ دیکھنے سے دل میں وسوسہ اور اندیشہ پیدا ہو گا، اگر کبھی ایسے مصیبت زدہ پر نظر پڑ جائے تو یوں کہے: «الحمد لله الذى عافانى مما ابتلاك به وفضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا» ۔