حدیث نمبر: 3447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ , قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ " , وَالسَّامُ الْمَوْتُ , وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے ، سوائے «سام» کے ، اور «سام» موت ہے ، اور کالا دانہ «شونیز» یعنی کلونجی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3448
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3449
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ , فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ , فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ , وَقَالَ لَنَا : عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا , ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ , وَفِي هَذَا الْجَانِبِ , فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ " , قُلْتُ : وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : " الْمَوْتُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم سفر پر نکلے ، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے ، وہ راستے میں بیمار پڑ گئے ، پھر ہم مدینہ آئے ، ابھی وہ بیمار ہی تھے ، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے ، اور ہم سے کہا : تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو ، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو ، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو ، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی ، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے ، سوائے اس کے کہ وہ «سام» ہو “ ، میں نے عرض کیا کہ «سام» کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت “ ۔