کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: (کھانے پینے میں) پرہیز اور احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 3442
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا , فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " مَهْ يَا عَلِيُّ إِنَّكَ نَاقِهٌ " , قَالَتْ : فَصَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْقًا وَشَعِيرًا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ , فَإِنَّهُ أَنْفَعُ لَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، وہ اس وقت ایک بیماری کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے ، ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھا رہے تھے ، تو علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھانے کے لیے لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی ٹھہرو ! تم بیماری سے کمزور ہو گئے ہو ، ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چقندر اور جو پکائے ، تو آپ نے فرمایا : ” علی ! اس میں سے کھاؤ ، یہ تمہارے لیے مفید ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پرہیز کرنا چاہئے، ایک دوسرے حدیث میں پرہیز و احتیاط کو ہر علاج کا راز بتایا گیا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پرہیزی سے اللہ کے حکم سے دوا کی تاثیر میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ بدپرہیزی دواؤں کی تاثیر کو معطل کر کے جسم میں دوسری خرابیاں پیدا کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطب 2 ( 3856 ) ، سنن الترمذی/الطب 1 ( 2037 ) ، ( تحفة الأشراف : 18362 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/363 ، 364 ) ( حسن ) » ( سند میں فلیح بن سلیمان ضعیف راوی ہیں ، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 59 )
حدیث نمبر: 3443
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ مِنْ وَلَدِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ , قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ خُبْزٌ وَتَمْرٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْنُ فَكُلْ " , فَأَخَذْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَأْكُلُ تَمْرًا وَبِكَ رَمَدٌ ؟ " , قَالَ : فَقُلْتُ إِنِّي أَمْضُغُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى , فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ اور کھاؤ “ ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے “ ، میں نے عرض کیا : میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4964 ، ومصباح الزجاجة : 1194 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/61 ) ( حسن ) »