مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شراب پر دس طرح سے لعنت ہے۔
حدیث نمبر: 3380
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ , وَأَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ , أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشْرَةِ أَوْجُهٍ بِعَيْنِهَا : وَعَاصِرِهَا , وَمُعْتَصِرِهَا , وَبَائِعِهَا , وَمُبْتَاعِهَا , وَحَامِلِهَا , وَالْمَحْمُولَةِ إِلَيْهِ , وَآكِلِ ثَمَنِهَا , وَشَارِبِهَا , وَسَاقِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب دس طرح سے ملعون ہے ، یہ لعنت خود اس پر ہے ، اس کے نچوڑنے والے پر ، نچڑوانے والے پر ، اس کے بیچنے والے پر ، اس کے خریدنے والے پر ، اس کو اٹھا کر لے جانے والے پر ، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کر لے جائی جائے ، اس کی قیمت کھانے والے پر ، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3380
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7296 ، ومصباح الزجاجة : 1173 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأشربة 2 ( 3674 ) ، مسند احمد ( 2/25 ، 71 ) ، دون قولہ : '' أکل ثمنہا'' ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ شَبِيبٍ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , أَوْ حَدَّثَنِي أَنَسٌ , قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً : " عَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَالْمَعْصُورَةَ لَهُ , وَحَامِلَهَا , وَالْمَحْمُولَةَ لَهُ , وَبَائِعَهَا , وَالْمُبْاعَةَ لَهُ , وَسَاقِيَهَا , وَالْمُسْتَقَاةَ لَهُ , حَتَّى عَدَّ عَشَرَةً مِنْ هَذَا الضَّرْبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی : ” اس کے نچوڑنے والے پر ، نچڑوانے والے پر ، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے ، اسے لے جانے والے پر ، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے ، بیچنے والے پر ، اس پر جس کو بیچی جائے ، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے “ ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأشربة / حدیث: 3381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «سنن الترمذی/البیوع 59 ( 1295 ) ، ( تحفة الأشراف : 900 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/316 ، 2/97 ) ( صحیح ) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔