کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَأَخَذَ الشَّفْرَةَ لِيَذْبَحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا “ یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دودھ والے جانور کا بلا عذر ذبح کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ دودھ سے بہتوں کو بہت دنوں تک فائدہ ہو سکتا ہے، اور گوشت کھا لینے میں یہ فائدہ جاتا رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الذبائح / حدیث: 3180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13462 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الأشربة 20 ( 2038 ) ، سنن الترمذی/الزہد 39 ( 2369 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3181
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِعُمَرَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا فِي الْقَمَرِ ، حَتَّى أَتَيْنَا الْحَائِطَ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا " ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ ، ثُمَّ جَالَ فِي الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " ، أَوْ قَالَ : " ذَاتَ الدَّرِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو ، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا ، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دودھ والی “ یا فرمایا : ” تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا “ یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الذبائح / حدیث: 3181
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن عبيد اﷲ: متروك, والمحاربي عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6627 ، ومصباح الزجاجة : 1100 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک راوی ہے )